خدا کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ فائدہ مند مرکز انسانی ہمدردی کے مطالعہ اور تحقیق کے لیے وہ پیش کرتا ہے۔ صحیح البخاری کا خلاصہ ظہر کی نماز کی فضیلت کا باب جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب اس نے پورے چاند کی رات چاند کو دیکھا اور اس نے کہا لیکن تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے تم یہ دیکھ رہے ہو۔ ایک ناول میں تم اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے دیکھو گے۔ آپ اس کے وژن میں اس سے متفق یا مقابلہ نہیں کرتے اگر ہو سکے تو طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے کی نماز نہ چھوڑیں۔ تو ایسا کرو پھر اس نے کہا اور اپنے رب کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے حدیث پر تبصرہ کریں۔ آپ کو افسوس نہیں ہے۔ یعنی غور و فکر کے وقت ایک دوسرے کو نہ ملایا جائے۔ آپ بے مثال ہیں۔ یعنی آپ پر شک یا شبہ نہیں ہوگا۔ اس کی نظر میں یعنی چاند حد سے زیادہ مت بنو یعنی تمہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا طلوع آفتاب سے پہلے یعنی فجر کی نماز اور غروب آفتاب سے پہلے یعنی عصر کی نماز بات کرنے کا ایک فائدہ بات کرنے سے فائدہ مومنوں کے لیے بعد کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا ثبوت ان کے اس قول سے کیا مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور ان کو سلامتی عطا فرمائے، وہ ان کا وژن ہے۔ وژن کو بصارت سے تشبیہ دینا مرئی کے ساتھ مرئی کے لیے اور حدیث میں ہے۔ فجر اور عصر کی نمازوں کی پابندی پر تاکید ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کو فرشتے اور دن کے وقت فرشتے تمہارے درمیان ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہیں۔ وہ فجر اور عصر کی نماز کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ پھر جن لوگوں نے تمہارے درمیان رات گزاری وہ اوپر جائیں گے۔ وہ ان سے پوچھتا ہے اور وہ انہیں بہتر جانتا ہے۔ تم نے میرے بندوں کو کیسے چھوڑا؟ اور کہتے ہیں۔ ہم نے انہیں نماز پڑھ کر چھوڑ دیا۔ اور ہم ان کے پاس آئے جب وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ حدیث پر تبصرہ کریں۔ وہ آپ کے درمیان ایک دوسرے کے بعد ہیں یعنی ایک فرقہ کے بعد دوسرا فرقہ آتا ہے۔ رات کو فرشتے اور دن کو فرشتے یہ فرشتے وہ زیادہ سے زیادہ رکھوالے ہیں۔ لنگڑانا یعنی چڑھنا وہ انہیں سب سے بہتر جانتا ہے۔ کیونکہ ایٹم کا وزن اس کے علم سے نہیں بچتا بات کرنے کا ایک فائدہ بات کرنے سے فائدہ اپنے بندوں پر خدا کی مہربانی سے کہ فرشتے ان کی عبادت کے اوقات میں ان سے ملتے اور چلے جاتے ہیں۔ حدیث میں اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر فوقیت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ فرشتوں کے وجود اور ان کے بعض افعال کو ثابت کرتا ہے۔ اس سے فجر اور عصر کی نمازوں کی پابندی کی تصدیق ہوتی ہے۔ باب: جس نے غروب آفتاب سے پہلے عصر کی نماز کی ایک رکعت پڑھی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی ظہر کی نماز کا سجدہ سورج غروب ہونے سے پہلے کر لے اسے اپنی نماز پوری کرنے دو اور اگر صبح کی نماز میں سجدہ کرے ۔ ایک ناول میں جس نے سورج نکلنے سے پہلے ایک رکعت نماز پڑھ لی اسے اپنی نماز پوری کرنے دو حدیث پر تبصرہ کریں۔ مجھے احساس ہے کہ کیا غلط ہے۔ مراد یہ ہے کہ نماز اس کے ادا کرنے کے لیے لکھی گئی۔ سجدہ کرنا سجدہ سے مراد رکعت ہے۔ رکعت کا نام سجدہ ہے کیونکہ یہ سجدے سے مکمل ہوتی ہے۔ اسے اپنی نماز پوری کرنے دو یعنی وہ نماز پوری کرے۔ خواہ اس کا بقیہ حصہ ممنوعہ وقت میں ہی آجائے بات کرنے کا ایک فائدہ حدیث میں اس کے ایک حصے کے ذریعے جماعت کی فضیلت کا ادراک کرنے کا تذکرہ ہے۔ حدیث میں طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز کے باطل ہونے کا وہم ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے شروع کرتے ہیں۔ اس میں نماز میں جلدی کرنے کا حوالہ ہے جب آپ اسے یاد کرتے ہیں۔ اگر تھوڑا سا وقت باقی رہ جائے تو صرف ایک رکعت کے لیے کافی ہے۔ اس سے فجر اور عصر کی نمازوں کی پابندی کی تصدیق ہوتی ہے۔ خواہ ان کا کچھ حصہ ممنوعہ وقت پر ہوا ہو۔ یہ خدا تعالی کی رحمت کی وسعت کی وضاحت کرتا ہے۔ اس قوم پر اس کا بڑا کرم ہے۔ ابن عمر کی طرف سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تمہاری بقا ان قوموں میں ہے جو تم سے پہلے گزری ہیں۔ ایک ناول میں بالکل آپ کی طرح یہود و نصاریٰ ایک آدمی کے طور پر اس نے مزدوروں کو ملازمت دی۔ اور ایک ناول میں آپ کی مدت پیچھے رہ جانے والی قوموں کی خاطر ہے۔ یہ عصر کی نماز اور غروب آفتاب کے درمیان بھی ہے۔ تورات والوں کو تورات دی گئی۔ چنانچہ انہوں نے دوپہر تک کام کیا وہ ایسا کرنے سے قاصر تھے۔ چنانچہ انہوں نے ایک کے بعد ایک قیراط دیا۔ پھر انجیل والوں کو انجیل دی گئی۔ چنانچہ وہ عصر کی نماز تک کام کرتے رہے۔ پھر وہ ناکام ہو گئے۔ چنانچہ انہوں نے ایک کے بعد ایک قیراط دیا۔ پھر ہمیں قرآن دیا گیا۔ چنانچہ ہم نے غروب آفتاب تک کام کیا۔ تو ہمیں دو قیراط دیے گئے۔ اہل دو کتابوں نے کہا ایک ناول میں یہود و نصاریٰ ناراض ہو گئے۔ اور کہنے لگے ہم کیا زیادہ کریں اور کیا کم دیں؟ یعنی ہمارا رب میں نے انہیں دو قیراط دیا۔ اور آپ نے ہمیں ایک کے بعد ایک قیراط دیا۔ ہم زیادہ متحرک تھے۔ اس نے کہا خداتعالیٰ نے فرمایا کیا میں نے آپ کے اجر سے آپ پر کسی طرح کا ظلم کیا ہے؟ ایک ناول میں کیا میں نے تمہیں تمہارے حقوق سے محروم کیا؟ کہنے لگے نہیں۔ اس نے کہا یہ میرا فضل ہے کہ میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں۔ حدیث پر تبصرہ کریں۔ لیکن آپ کی بقا قریب آنے والے وقت کا اشارہ اور دنیا کا کیا تھوڑا سا بچا ہے۔ کبھی آگے بڑھو قوموں کا یعنی یہود و نصاریٰ وہ نہیں کر سکے۔ یعنی انہوں نے وہ کام نہیں کیا جو انہیں سونپا گیا تھا۔ تو دیں۔ ان کے کام کا کوئی معاوضہ نہیں۔ کیرٹ کیرٹ وزن معلوم ہے۔ کہا گیا کہ یہ دینار کا چوبیسواں حصہ ہے۔ ہم زیادہ متحرک تھے۔ کیونکہ وقت کی طوالت میں بہت زیادہ محنت درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بات حسد سے کہی۔ کیا میں نے آپ کے اجر سے آپ پر کسی طرح کا ظلم کیا ہے؟ یعنی کیا میں نے تمہاری اجرت اور تمہارے حقوق میں کمی کی؟ ناانصافی کچھ بڑھا کر ہو سکتی ہے۔ یہ کم ہو سکتا ہے۔ آپ کے لیے آپ کتنے بجے قیام کرتے ہیں؟ کہیں سے باہر جو کبھی بات کرنے کا ایک فائدہ بات کرنے سے فائدہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے، خدا ان پر رحمت نازل فرمائے اور آسان کام کے لیے اس کی اجرت دوگنی کر دیں۔ حدیث سے ثابت ہے کہ تورات یہودیوں پر نازل ہوئی تھی۔ انجیل عیسائیوں پر نازل ہوئی۔ اور حدیث میں ہے۔ کہ یہود و نصاریٰ نے اپنی کتابوں کی تعلیمات سے انحراف کیا۔ وہ اخراجات برداشت کرنے سے قاصر تھے۔ وہ غصے اور گمراہی کے مستحق تھے۔ حدیث میں یہود و نصاریٰ کی روش سے احتیاط کی طرف اشارہ ہے۔ محاورات دینا جائز ہے۔ یہ وصول کنندہ کے ساتھ گونجتا ہے۔ اس سے فیصلے اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار پر، انہوں نے کہا جیسے مسلمان، یہودی اور عیسائی ایک آدمی کی طرح جس نے لوگوں کو نوکری پر رکھا وہ اس کے لیے دن رات کام کرتے ہیں۔ معلوم اجرت کے لیے چنانچہ وہ دوپہر تک اس کے لیے کام کرتے رہے۔ اور کہنے لگے ہمیں تیرے اس انعام کی کوئی ضرورت نہیں جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا ہے۔ اور جو ہم کرتے ہیں وہ باطل ہے۔ آپ نے ان سے فرمایا: ایسا نہ کرو اپنے باقی کام مکمل کریں۔ اور اپنا پورا اجر لے لیں۔ انہوں نے انکار کر دیا اور چلے گئے۔ اس نے ان کے بعد دو ملازم رکھے اس نے ان سے کہا اپنا باقی دن جاری رکھیں اور آپ کے پاس وہ اجر ہے جو آپ نے ان کے لیے مقرر کیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ظہر کی نماز تک کام کیا۔ اس نے کہا ہم نے جو کیا ہے وہ باطل ہے۔ اور آپ کے پاس وہ انعام ہے جو آپ نے ہمیں دیا ہے۔ اس نے ان سے کہا اپنے باقی کام مکمل کریں۔ باقی دن آسان ہے۔ ابیہہ اس نے اپنے باقی دن کے لیے اس کے لیے کام کرنے کے لیے لوگوں کو رکھا چنانچہ وہ سورج کے جنگل تک اپنے باقی دن کام کرتے رہے۔ انہوں نے دونوں ٹیموں کی اجرت پوری کی۔ یہ ان جیسا ہے اور جیسا کہ انہیں اس نور سے ملا ہے۔ حدیث پر تبصرہ کریں۔ کسی بھی ہم منصب کی طرح یا اس سے ملتا جلتا اس نے اپنے لیے کام کرنے کے لیے لوگوں کو رکھا لوگ یہودی ہیں۔ ہمیں آپ کے انعام کی ضرورت نہیں ہے۔ کرایہ دار کو خط اس کا مطلب کام چھوڑنا ہے۔ اور جو ہم کرتے ہیں وہ باطل ہے۔ ان کے کام میں مایوسی کی علامت ایسا مت کرو، کام نہ چھوڑو انہوں نے انکار کر دیا، یعنی وہ باز رہے۔ وہ چلے گئے، یعنی کام چھوڑ کر ذمہ داری سنبھالی۔ چنانچہ خدا نے ان سے دستبرداری کی اور ان کی جگہ لے لی لیکن انہوں نے انکار کر دیا، یعنی وہ باز رہے۔ اس نے اپنے باقی دن کے لیے اس کے لیے کام کرنے کے لیے لوگوں کو رکھا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں، اللہ ان پر رحمت نازل فرمائے انہوں نے دونوں ٹیموں کی اجرت پوری کی۔ یعنی یہود و نصاریٰ اور جیسا کہ انہوں نے اس روشنی سے حاصل کیا۔ یعنی مسلمانوں کی طرح اور اس نور سے جو کچھ حاصل کیا اس کی طرح یعنی حق کی طرف ہدایت کی روشنی بات کرنے کا ایک فائدہ حدیث سے ملت اسلامیہ کی فضیلت بیان کرنا مفید ہے۔ جس نے خداتعالیٰ کی ہدایت کو قبول کیا۔ اور جو کچھ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے معلومات پہنچانے کے لیے مثال دینا جائز ہے۔ اور پہلی مثال سے یہی مراد ہے۔ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اس قوم کے اعمال دوسری قوموں کے اعمال سے زیادہ ثواب دار ہیں۔ اور دوسرے سے وہ لوگ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ ان کے اعمال ان کے دین کے خلاف ہیں اور ان پر کوئی اجر نہیں ہوگا۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلی امتوں کی کتابوں میں تحریف ہوئی ہے۔ پچھلی قومیں پورے ثواب سے محروم تھیں۔ انہوں نے جو کام شروع کیا تھا اس کو مکمل کرنے سے باز رہے۔ معلوم وقت کے لیے معلوم اجرت پر کرایہ پر لینا جائز ہے۔ جو بھی کام کرے وہ پورے اجر کا مستحق ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معاہدہ کرنے والے فریقین کے درمیان شرط کا پورا ہونا ضروری ہے۔ مغرب کے وقت کا حصہ رافع بن خدیج نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مراکش پہنچتے تھے۔ ہم میں سے ایک کہاں گیا؟ وہ اپنی شرافت کے مقامات دیکھ سکتا ہے۔ حدیث پر تبصرہ کریں۔ ہم میں سے کسی نے مغرب کی نماز کہاں گزاری؟ اور اپنی شرافت کے مقامات دیکھتا ہے۔ یعنی وہ اپنی کمان سے تیر پھینکتا ہے۔ وہ جگہ جہاں گرتا ہے دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ روشنی باقی رہتی ہے۔ بات کرنے کا ایک فائدہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سورج غروب ہوتے ہی اپنے وقت کے شروع میں مراکش جانے میں جلدی کرتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے اوقات مخصوص ہیں۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز حجرے کے ساتھ پڑھتے تھے۔ اور دوپہر اور سورج پاک ہیں۔ ایک ناول میں اور سورج زندہ ہے۔ اور اگر ضروری ہو تو مراکش اور رات کا کھانا کبھی اور کبھی اگر وہ انہیں جمع ہوتے دیکھے تو جلدی کرے گا۔ اور اگر وہ ان کو دیکھتا ہے تو وہ پھر سست ہو جاتے ہیں۔ اور صبح کی نماز تھی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دل کی دھڑکن کے ساتھ پڑھا۔ حدیث پر تبصرہ کریں۔ امیگریشن کے ذریعے دن کے وسط میں جب گرمی شدید ہو تو ہجرت کرنا اور سورج پاک ہے۔ یعنی خالص خالص وہ ابھی اس میں داخل نہیں ہوا تھا کہ بدل گیا۔ اگر ضروری ہو تو اس سے مراد سورج کی ڈسک کا غروب آفتاب کے وقت گرنا ہے۔ جلدی کرو یعنی شام کی نماز اور اگر وہ ان کو دیکھتا ہے تو وہ پھر سست ہو جاتے ہیں۔ یعنی اگر وہ نمازیوں کو دیر سے دیکھے۔ شام کی آخری نماز جماعت کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے باگلاس یعنی رات کے آخری اندھیرے میں بات کرنے کا ایک فائدہ بات کرنے سے فائدہ نماز کے اوقات معطل ہیں۔ اس میں میزان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے۔ شام کی نماز میں تاخیر کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اس میں جلدی کرنا جائز ہے۔ شام کی نماز میں تاخیر کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ لوگوں کو مزید اکٹھا کرنے کے لیے فجر کی نماز ایک کپ پانی سے شروع کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اور حدیث میں ہے۔ نماز کے لیے اس کے وقت کے شروع میں جلدی کرو سوائے اس کے جیسا کہ ثبوت میں بیان کیا گیا ہے۔ پیٹھ میں ٹھنڈے پاؤں کی طرح اور صبح کا سفر کرنا جب گروپ میں دیر ہو جائے تو رات کے کھانے میں تاخیر کرنا حدیث میں نماز باجماعت کی فضیلت کا حوالہ موجود ہے۔ اور اس کے بڑھنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ امام کو نمازیوں کے حالات کا خیال رکھنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم مراکش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ اگر وہ پردے میں چھپ جائے۔ حدیث پر تبصرہ کریں۔ ہم ایک ایسا فارمولہ تھے جو مستقل اور تسلسل کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ اگر وہ پردے میں چھپ جائے۔ یعنی اسے کسی چیز نے چھپا رکھا تھا جو اسے نظروں سے اوجھل کر دیتی ہے۔ بات کرنے کا ایک فائدہ بات کرنے سے فائدہ نماز مغرب کے وقت کے شروع میں جلدی کریں۔ نماز کے اوقات معطل ہیں۔ باب: قابل اعتراض بات یہ ہے کہ مغرب کو عشاء کہا جائے۔ عبداللہ بن مغفل المزانی کی سند سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدویوں کو آپ کو مغرب کی نماز کہنے میں دھوکہ نہ دیں۔ اس نے کہا کہ بدوی کہتے ہیں کہ رات کا کھانا ہے۔ حدیث پر تبصرہ کریں۔ بدو وہ لوگ ہیں جو صحرا میں رہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے نام رکھنے اور ایسا کرنے سے گمراہ نہ ہوں۔ پس نماز میں تاخیر کرو لیکن وقت ہو تو دعا کریں۔ رات کا کھانا ہے۔ یعنی رات کا پہلا اندھیرا جب وہ اپنے آپ کو اونٹوں سے ڈھانپ لیتے ہیں۔ بات کرنے کا ایک فائدہ بات کرنے سے فائدہ قانونی نام کی وابستگی خاص طور پر جب الجھن اور شبہات پیدا ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ باقاعدہ نماز ایک معطل معاملہ ہے۔ رات کے کھانے کی فضیلت کا باب عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کا کھانا تیار کیا۔ ایک ناول میں یہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کی بات ہے۔ یہاں تک کہ عمر نے اسے بلایا دعا عورتیں اور لڑکے سو گئے۔ تو باہر نکل کر بولا۔ ایک ناول میں اس نے مسجد والوں سے کہا آپ کے سوا زمین پر کوئی اس کا انتظار نہیں کر رہا ہے۔ اس نے کہا وہ اس دن مدینہ کے علاوہ نماز نہیں پڑھے گا۔ اور وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ ایک ناول میں وہ اندھیرے میں نماز پڑھ رہے تھے۔ جبکہ گودھولی غائب ہو جاتی ہے۔ رات کی پہلی تہائی تک حدیث پر تبصرہ کریں۔ گہرا اندھیرا صبح سویرے کا اندھیرا اور معنی اس نے تاخیر کی اور تاخیر کی یہاں تک کہ وہ اندھیرے میں داخل ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے ظاہر کریں۔ یعنی ظاہر ہونے سے پہلے بات کرنے کا ایک فائدہ بات کرنے سے فائدہ اس کی اکثر حالتیں، خدا اس پر رحم فرمائے اور اسے سلامتی عطا فرمائے اپنی قوم پر احسان کے طور پر نماز پڑھنا اور طویل انتظار کی وجہ سے ان سے مشکلات کو دور کرنا اس میں نماز کے انتظار کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ امام اور عالم کے ہاتھ میں دعا کرنا یاد دہانی ہے۔ شام کی نماز میں تاخیر کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ عورتوں اور لڑکوں کے لیے نماز باجماعت میں شرکت کرنا مستحب ہے۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: یہ میں اور میرے ساتھی تھے جو میرے ساتھ جہاز پر آئے تھے۔ باقی بتن میں نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باری باری کی۔ ہر رات شام کی نماز کے وقت ان کا ایک گروہ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اتفاق کیا۔ میں اور میرے دوست اسے کچھ معاملات میں کچھ کام ہے۔ چنانچہ میں نے رات ہونے تک نماز پڑھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے۔ ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے ۔ اس نے ان لوگوں سے کہا جنہوں نے اس میں شرکت کی۔ اپنے رسولوں پر اچھی خبر یہ آپ پر خدا کی رحمت ہے۔ اس وقت آپ کے سوا کوئی نماز نہیں پڑھ رہا ہے۔ یا اس نے کہا اس وقت آپ کے علاوہ کسی نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کون سے دو الفاظ کہے۔ ابو موسیٰ نے کہا چنانچہ ہم واپس آگئے۔ پس ہم اس پر خوش ہوئے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا حدیث پر تبصرہ کریں۔ باقی بتن میں یہ شہر میں ایک وادی ہے۔ موڑ لیں ان اوقات اور ان اوقات میں شرکت کے لیے بھاگنا یعنی تین سے دس تک کے کئی آدمی تو ہم مان گئے۔ یعنی ہم سامنے آگئے۔ کچھ کام یہ فوج کو لیس کرنا تھا۔ چنانچہ میں نے اپنے آپ کو نماز میں بند کر لیا۔ یعنی اسے سست اور تاخیر سے دو رات کا مسالا بھی یعنی اسے درست کرو جب وہ نماز سے فارغ ہوئے ۔ یعنی اس نے اسے ختم کر دیا۔ اپنے رسولوں پر یعنی اپنا وقت نکالو پس ہم اس پر خوش ہوئے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا یعنی جلد میں ہماری خوشی بات کرنے کا ایک فائدہ بات کرنے سے فائدہ علم کی تلاش میں باری باری لینا جائز ہے۔ اس میں سنت اور دینی فرائض کو سیکھنے کا شوق بھی شامل ہے۔ حدیث میں ایک شخص کی خبر کو قبول کیا گیا ہے۔ رات کے کھانے میں تاخیر جائز ہے۔ اگر وہ جانتا ہے کہ عوام میں اس کا انتظار کرنے کی طاقت ہے۔ رات کے کھانے کے بعد بات کرنا جائز ہے۔ اور منع کرنا اچھا نہیں ہے۔ اور حدیث میں ہے۔ اس کی اکثر حالتیں، خدا اس پر رحم فرمائے اور اسے سلامتی عطا فرمائے اپنی قوم پر احسان کے طور پر نماز پڑھنا اور انہیں طویل انتظار کی مشقت سے نجات دلائے اس میں نماز کے انتظار کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور لوگوں کو چیزوں کے بارے میں صبر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس میں یہ جائز ہے کہ کسی مسلمان کو جس چیز کی خوشنودی ہو اس کی تبلیغ کرے۔ کیونکہ اس سے مومن کے دل کو خوشی ملتی ہے۔ یہ خوشخبری میں خوشی کی اجازت دیتا ہے۔ پر قابو پانے والوں کے لیے رات کے کھانے سے پہلے سونے کا باب نافع کے اختیار پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل ہوں۔ اس نے رات بھر اس پر قبضہ کیا۔ اس نے تاخیر کی یہاں تک کہ ہم مسجد میں لیٹ گئے۔ پھر ہم بیدار ہوئے۔ پھر ہم لیٹ گئے۔ پھر ہم بیدار ہوئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے پھر اس نے کہا روئے زمین پر تیرے سوا کوئی دعا کا انتظار نہیں کرتا ابن عمر نے پرواہ نہیں کی کہ یہ سب سے قدیم ہے یا آخری اگر اسے ڈر نہ ہو کہ وہ اس وقت سو جائے گا۔ وہ اس کے سامنے لیٹا تھا۔ حدیث پر تبصرہ کریں۔ اس نے رات بھر اس پر قبضہ کیا۔ شام کی نماز کے وقت کوئی بھی کام یہاں تک کہ ہم مسجد میں لیٹ گئے۔ یعنی جب تک ہم مسجد میں نہ سوئے۔ ابن عمر نے پرواہ نہیں کی کہ یہ سب سے قدیم ہے یا آخری یعنی اسے کوئی پرواہ نہیں۔ رات کا کھانا پہلے ہے یا بعد میں؟ جب وہ رات کے کھانے کے وقت سو جانے سے نہیں ڈرتا آپ کے علاوہ یعنی تمہارے سوا وہ اس کے سامنے لیٹا تھا۔ یعنی شام کی نماز سے پہلے سوتا ہے۔ بات کرنے کا ایک فائدہ بات کرنے سے فائدہ اس کی اکثر حالتیں، خدا اس پر رحم فرمائے اور اسے سلامتی عطا فرمائے اپنی قوم پر احسان کے طور پر نماز پڑھنا اور طویل انتظار کی وجہ سے ان سے مشکلات کو دور کرنا عصر کی نماز سے پہلے سونا جائز ہے۔ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے سوچا کہ وہ جاگ جائیں گے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ شام کی نماز میں تاخیر کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ مسجد میں سونا جائز ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اندھیرا چھا گیا۔ رات کے کھانے کے ساتھ یہاں تک کہ لوگ سو گئے اور جاگ گئے۔ وہ سو گئے اور جاگ گئے۔ پھر عمر بن الخطاب نے کھڑے ہو کر کہا دعا ایک ناول میں عورتیں اور لڑکے لیٹ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے کیونکہ میں اب اسے دیکھ رہا ہوں۔ اس کے سر سے پانی ٹپکتا ہے۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اور اس نے کہا ایک ناول میں یہ وقت ہے اگر میں اپنی قوم کے لیے مشکل نہ بناتا میں نے انہیں اس طرح نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ حدیث پر تبصرہ کریں۔ اس کے سر سے پانی ٹپکتا ہے۔ دھونے میں سے کوئی بھی نہیں۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کی انگلیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پھر اس نے اپنی انگلیوں کو سر کے سینگ پر رکھا پھر اس میں شامل ہوا اور اسے سر کے اوپر سے گزرا۔ یہاں تک کہ اس کے انگوٹھے نے چہرے کے ساتھ والے کان کی نوک کو چھوا۔ مندر اور داڑھی کے علاقے پر میں نے انہیں اس طرح نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ یعنی میں نے انہیں اس وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ بات کرنے کا ایک فائدہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہلکی نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا امام اور عالم کو نماز کی یاد دلانا جائز ہے۔ حدیث میں ہے کہ اگر امام اپنے اصحاب کے پیچھے دیر کرے۔ یا اس کے ساتھ کچھ ایسا ہوا کہ اس کے خیال میں ان کے لیے مشکل ہو گی۔ وہ ان سے معافی مانگتا ہے اور اپنا عذر بیان کرتا ہے۔ اس میں اپنی اور دوسروں کی طرف سے مشقت کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی شامل ہے۔ مسجد میں سونا جائز ہے۔ شام کی نماز میں تاخیر کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ عشاء کا وقت آدھی رات تک حامد کے اختیار پر اس نے کہا: انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی لی تھی؟ اور اس نے کہا ہاں نماز عصر کی آخری رات آدھی رات تک ہے۔ پھر نماز ادا کرنے کے بعد منہ بنا کر ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ اور اس نے کہا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے۔ جب سے آپ اس کا انتظار کر رہے ہیں آپ نے نماز نہیں چھوڑی۔ اس نے کہا گویا میں اس کی انگوٹھی کی چمک کو دیکھ رہا ہوں۔ حدیث پر تبصرہ کریں۔ آدھی رات لوگ نماز پڑھ کر سو گئے۔ مراد وہ لوگ ہیں جو موجود نہیں ہیں۔ جو اپنے گھر یا اپنے قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھے۔ جب سے آپ اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ کب تک انتظار کرو گے؟ اور اس کے انجام کی روشنی یعنی اس کی چمک اور چمک بات کرنے کا ایک فائدہ بات کرنے سے فائدہ انگوٹھی لینے کی قانونی حیثیت اس میں نماز کے انتظار کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ سوال علم کی کنجی ہے۔ شام کی نماز میں تاخیر کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ فجر کی نماز کی فضیلت کا باب ابو موسیٰ کی روایت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص البردین کی نماز پڑھے گا وہ جنت میں جائے گا۔ حدیث پر تبصرہ کریں۔ البرادین کی دعا کریں۔ سردی فجر اور دوپہر انہوں نے اسے کہا کیونکہ وہ سردی کے وقت ایسا کرتے ہیں۔ بات کرنے کا ایک فائدہ بات کرنے سے فائدہ ظہر اور فجر کی نماز کی فضیلت بیان کرنا اس میں عصر اور فجر کی نمازوں کو برقرار رکھنے کی ترغیب شامل ہے۔ باب: فجر کا وقت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ زید بن ثابت نے ان سے کہا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر وہ نماز کے لیے اٹھے۔ ان کے درمیان کتنا؟ اس نے کہا زیادہ سے زیادہ پچاس یا ساٹھ اس کا مطلب ایک آیت ہے۔ حدیث پر تبصرہ کریں۔ سحری کرو یعنی روزہ رکھنے والوں کے لیے سحری کھانا ان کے درمیان کتنا؟ یعنی سحری اور صبح کی نماز کے درمیان کتنا وقت ہے؟ زیادہ سے زیادہ پچاس یا ساٹھ یعنی مدت جتنا پچاس یا ساٹھ آیات پڑھنا بات کرنے کا ایک فائدہ اس نے گفتگو سے فائدہ اٹھایا ایک دوسرے کے بارے میں صحابہ کرام کے احادیث اور وہ سب منصفانہ ہیں۔ سحری میں تاخیر کرنا مستحب ہے۔ سہل بن سعد سے مروی ہے کہ: میں اپنے خاندان کو جادو کر رہا تھا۔ پھر میری رفتار ہے فجر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کرنا حدیث پر تبصرہ کریں۔ کسی بھی پہیے کی رفتار میں سمجھتا ہوں کہ کون سا صحیح ہے۔ بات کرنے کا ایک فائدہ بات کرنے سے فائدہ روزہ رکھنے والوں کے لیے سحری کھانے کی فضیلت بیان کرنا اس میں باجماعت نماز کی فضیلت ہے۔ نماز باجماعت کے لیے جلدی پہنچنا مستحب ہے۔